تحریر : علی رضا
کراچی میں جماعت اسلامی کے احتجاج کے دوران گدھوں پر اجرک والی نمبر پلیٹ لگا کر احتجاج کیا گیا جو کچھ ہوا وہ احتجاج نہیں تھا وہ ایک سوچ تھی جو سڑک پر لائی گئی گدھا محض ایک جانور نہیں تھا وہ ایک علامت بنا دی گئی اور اس علامت کے ساتھ اجرک کو باندھ دیا گیا خبر بن گئی تصویر وائرل ہو گئی اور کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ اس تصویر میں سب سے زیادہ تزلیل کس کی گئی
اجرک کوئی کپڑا نہیں یہ سندھ کی پہچان ہے یہ اس دھرتی کی سانس ہے جو صوفیوں کے کندھوں پر رہی جو بزرگوں کی خاموش دعاؤں میں لپٹی رہی جو احترام کے ساتھ اوڑھی گئی اور آج اسے احتجاج کے نام پر گدھے کے گلے میں باندھ دیا گیا اختلاف یہاں سیاست سے نکل کر اخلاق کے کٹہرے میں کھڑا ہو جاتا ہے
رکن صوبائی اسمبلی فاروق صاحب صفائی پیش کرتے ہیں کہ یہ طنز تھا علامت تھی احتجاج کا طریقہ تھا مگر سوال یہ ہے کہ طنز ہمیشہ کمزور احساس کی پہچان پر ہی کیوں کیا جاتا ہے کرپشن کے خلاف بولنے کے لیے کسی ثقافت کو گھسیٹنا کیوں ضروری سمجھا جاتا ہے
ہمیں تو بچپن میں یہ سکھایا گیا تھا کہ کسی کے خدا کو بھی برا نہ کہو چاہے تم اسے جھوٹا ہی کیوں نہ سمجھتے ہو کہ کہیں وہ تمہارے سچے خدا کو برا کہنے نہ لگے یہ سبق صرف مذہب کا نہیں تھا یہ تہذیب کا تھا یہ انسان ہونے کا طریقہ تھا
اسلام تو جنگ میں بھی عورت بچے درخت اور عبادت گاہ کو امان دیتا ہے پھر یہ کیسی سیاست ہے جس میں ایک قوم کی ثقافت کو احتجاجی کھلونا بنا دیا جائے یہ کون سا دین ہے جو تذلیل کو دلیل بنا دے
یہاں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سے سوال بنتا ہے اور بہت سیدھا سوال بنتا ہے کہ جماعت اسلامی کی اخلاقیات کیا صرف مائیک تک محدود ہیں یا عملی سیاست میں بھی ان کا کوئی وزن ہے اگر قیادت خاموش رہے تو خاموشی خود ایک موقف بن جاتی ہے اس عمل کا نوٹس لینا اور غیر مشروط معافی مانگنا سیاست نہیں اخلاق کا تقاضا ہے
یہ بات مہاجر برادری کو بھی سنجیدگی سے سوچنی ہوگی کہ اگر آج اجرک کی تذلیل پر خاموشی اختیار کی گئی تو کل کسی اور کی پہچان نشانہ بنے گی اور پھر کوئی یہ نہیں پوچھے گا کہ یہ مذاق کہاں سے شروع ہوا تھا نفرت کو نہ روکنا نفرت میں شریک ہونا ہوتا ہے
اگر فوری معافی نہیں مانگی جاتی تو مہاجروں کی جانب سے پرامن مگر واضح احتجاج ہونا چاہیے یہ احتجاج سندھیوں کے حق میں ہونا چاہیے اس سوچ کے خلاف ہونا چاہیے جو قوموں کو لڑا کر سیاست چمکاتی ہے
یہ بھی سچ ہے کہ کچھ لوگ دانستہ سندھی اور مہاجر کو آمنے سامنے کھڑا کرنا چاہتے ہیں اور اگر اس سازش کو ناکام بنانا ہے تو سب سے فیصلہ کن کردار خود مہاجر برادری کو ادا کرنا ہوگا کیونکہ نفرت کا جواب نفرت نہیں ہوتا انکار ہوتا ہے
میں یہ تحریر اس لیے لکھ رہا ہوں کہ اگر آج اجرک کا مزاق بنایا گیا تو ایک مہاجر اس عمل کی مخالفت میں کھڑا تھا کل کوئی یہ نہ کہے کے سارے مہاجروں نے مزاق اڑایا اور سب خاموش تھے
کسی کی بھی ثقافت کا مزاق اڑانا آج بھی غلط ہے اور کل بھی غلط ہوگا اس شہر میں علی رضا اکیلا نہیں بلکہ اس جیسے ہزاروں ہیں جو اس عمل کو شرمناک قابل مذمت اور انسانیت کے خلاف سمجھتے ہیں
اختلاف سیاست میں ہو سکتا ہے احتجاج حق ہے مگر ثقافت کی تذلیل نہ اسلامی ہے نہ اخلاقی اور نہ ہی کراچی جیسے زخمی مگر زندہ شہر کے شایان شان کیونکہ جس دن ہم نے ایک دوسرے کی پہچان کا احترام چھوڑ دیا اس دن تباہی ہمارا مقدر ہے
یہ گدھا قصوروار نہیں قصور اس ذہن کا ہےجو تذلیل کو دلیل سمجھ بیٹھا ہے جس کو درست کرنا صرف سندھی نہیں مہاجروں کا بھی فرض ہے