تحریر : علی رضا
اس ملک میں ایک قیدی ہے اور اس قیدی کے گرد پورا میڈیا قید ہے صبح اس کی رہائی دوپہر اس کی مظلومیت شام اس کی جماعت اور رات کو یہ تجزیہ کہ کل کیا ہوگا؟ ہاں کل؟ کل تو معیشت مر گئی تھی مگر اس کی خبر نہیں بنی کسی پروگرام اینکر کو یاد رہا نہ کسی چینل مالک کو
کراچی میں فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں بلڈرز نمائندے کہہ رہے ہیں کہ ہم کاروبار لپیٹ دیں گیں ٹیکسٹائل انڈسٹری خاموشی سے سانس توڑ رہی ہے سرمایہ میں ملک سے باہر جا رہا ہے مگر ٹی وی اسکرین پر سوال وہی ہے کہ خان کب آزاد ہوگا؟
بھائی خان آزاد ہوگا تو ہوگا مگر یہ ملک کی معیشیت کون آزاد کرے گا اس سوال پر پروگرام نہیں ہوتا معیشت پر بات خطرناک سمجھی جاتی ہے کیونکہ وہاں نعرے نہیں اعداد و شمار ہوتے ہیں وہاں تالیاں نہیں ذمہ داری مانگی جاتی ہے
چھوٹا تاجر پوچھتا ہے کہ میں کیا کروں؟
ایف بی آر جواب نہیں دیتا اور میڈیا سوال نہیں کرتا نئے بزنس وینچرز کیسے آئیں گے؟
نئی اپرچونٹیز کیسے پیدا ہوں گی؟ٹیکنالوجی کیسے ایک تاجر کو یہ اعتماد دے گی کہ وہ سرمایہ دبئی یا کسی اور ملک نہ لے جائے؟
یہ سوال اس لیے نہیں پوچھے جاتے کیونکہ یہ سوال حکومت کو تکلیف دیتے ہیں اور شاید چینلز کی ریٹنگ کو نقصان بھی
یوں محسوس ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کو بھی سکون ہے کہ میڈیا ایک ہی بحث کی لاش کو روز نہلا دھلا کر دکھاتا رہے اور معیشت خاموشی سے دفن ہوتی رہے
کیونکہ جب لوگ روٹی مانگتے ہیں تو حکومت جواب دہ ہوتی ہے اور جب لوگ نعرہ مانگتے ہیں تو سب بری الذمہ
میں کہنا چاہتا ہوں کہ بگڑتی معیشت اور اسکے سدھار پر بھی بات ہونی چائیے کیونکہ اس سے ہی ہمارے ٹینک ، بارود ، جہاز ، ایوان اور ہاں غریب کی روزی روٹی بھی چلے گی
اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر لوگ یہ کہنے پر مجبور ہونگیں کے یہ قیدی اکیلا نہیں اس کے ساتھ ایک پوری قوم بھی حوالات میں ہے فرق صرف یہ ہے کہ قوم کو یہ تک نہیں بتایا گیا کہ اس کا جرم “غربت” ہے