تحریر : علی رضا
چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور کراچی بار کے اراکین کی ملاقات کے بعد وکلاء الیکشن کے ماحول کو پرامن بنانے کے لیے ایک اہم نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے
اس نوٹیفیکیشن کا بنیادی مقصد اسلحہ کی نمائش ہوائی فائرنگ اور دیگر غیر قانونی حرکات کی روک تھام ہےنوٹیفیکیشن میں بار ممبران کو واضح طور پر پابند کیا گیا ہے کہ وہ انتخابی عمل کے دوران یا اس کے بعد کسی بھی قسم کی ہوائی فائرنگ یا اسلحہ کی نمائش نہیں کریں گے
خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قانون کے تحت براہ راست کارروائی عمل میں لائی جائے گیماضی کے وکلاء الیکشن کے بعد متعدد بار ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہی ہیں جن میں فائرنگ اور اسلحہ کی نمائش دیکھی گئی
تاہم ان واقعات پر نہ تو مقدمات سامنے آئے اور نہ ہی کسی مؤثر احتساب کی مثال قائم ہو سکیاس بار جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن میں یہ بات خاص طور پر واضح کی گئی ہے کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں کوئی بار ایسوسی ایشن بیچ میں نہیں آئے گی
قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داری آزادانہ طور پر ادا کریں گےقانونی حلقوں میں اس نوٹیفیکیشن کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ وکلاء خود قانون کے محافظ سمجھے جاتے ہیں
اگر یہی طبقہ قانون شکنی کرے تو معاشرے کے لیے ایک منفی پیغام جاتا ہےچیف جسٹس سندھ کی جانب سے یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ عدالتی نظام اب نمائشی اقدامات کے بجائے عملی اصلاحات کی طرف بڑھ رہا ہے
اب اصل امتحان اس نوٹیفیکیشن پر عمل درآمد کا ہےاگر اس بار واقعی بلا امتیاز کارروائی کی گئی تو یہ وکلاء سیاست میں ایک مثبت مثال بن سکتی ہے
بصورت دیگر یہ نوٹیفیکیشن بھی ماضی کی طرح فائلوں تک محدود ہو کر رہ جائے گاوقت آ گیا ہے کہ قانون کی حکمرانی کا آغاز ہر طبقے سے ہو اور وکلاء اس کی پہلی مثال بنے