تحریر : علی رضا
کراچی ۔۔۔ وہ شہر جسے لوگ شور دھول اور تھکن کے فریم میں قید کرکے دیکھتے ہیں مگر آج بولٹن مارکیٹ کی ٹوٹی دیواروں پر جب رنگوں کے چھینٹے مارے گئے تو شہر نے یوں سانس لی جیسے برسوں بعد کسی نے اس کے سینے سے گرد ہٹائی ہو
مئیرکراچی مرتضی وہاب نے ہوانا سٹی کے طرز پر جو رنگوں کا تماشا سجایا ہے وہ محض رنگ نہیں یہ ایک اعلان ہے کہ کراچی کو اب لاوارث نہیں رہنے دیا جائے گا
پرانے بازار کی دیواریں جب نیلی گلابی اور ہرے رنگ پہن کر کھڑی ہوئیں تو یوں لگا جیسے کسی نے کراچی کے چہرے پر پہلی بار اہینہ رکھ کر کہا ہو دیکھو تم اب بھی خوبصورت ہو!
یہ صرف رنگ نہیں یہ امید کے پہلے قطرے ہیں میری درخواست ہوگی کہ اس شہر کی ساری پینٹ کمپنیاں کے ایم سی ٹاؤنز، یوسیز سب شہر کے اس نئے جنم میں حصہ ڈالیں
کہ کراچی کے ہر محلے ہر گلی ہر دیوار پر یہ رنگ روغن پھیلتا چلا جائے تاکہ دنیا دیکھے کہ اس شہر کے لوگ اپنے شہر کے وارث بھی ہیں اور محافظ بھی
مئیر کراچی مرتضی وہاب سے اتنا ہی کہونگا یہ اچھا آغاز اسے اختتام نہیں ہونا چائیے بلکہ اس شہر کی امید بن کر جس طرح اس بولٹن مارکیٹ کو سجایا ہے پورے شہر کو سجادیں
کیونکہ رنگ جب ایک دیوار پر لگتا ہے تو دوسری دیوار خود پکارتی ہےمجھے بھی نیا بنا دو میں سمجھتا ہوں یہ وہ صرف رنگ نہیں یہ کراچی کی بیداری کا پہلا شعور ہے اور شعور اب پورے شہر میں جھلکے گا ہم دعا گو بھی ہیں اور پر امید بھی