تحریر:علی رضا
رات کے سناٹے میں گلیوں پر پھیلتی
خاموشی جیسے کسی بڑے حادثے کا انتظار کر رہی ہو ضلع ملیر گلشن حدید کی گلشن فلکناز سوسائٹی میں ایک دروازہ دھڑاک سے کھلا دس بھوکے بھیڑیے روڈوں اور اسلحے سے لیس اندر گھس آئے
گھر کے کمرے میں چراغ ابھی جل رہے تھے ایک بوڑھا دل کے مرض کا مریض اپنی سانسوں کو سنبھالتا بیٹھا تھا بھیڑیوں نے دیکھا نہیں بس برس پڑے روڈوں کی بارش مکے بندوق کے بٹ اس کا دل تو پہلے ہی بوجھل تھا اب ٹوٹ گیا وہ فرش پر تڑپتا رہا سانس اکھڑتی رہی بچے چیخ اٹھے
ابا۔۔۔۔۔
لیکن ایک نقاب پوش نے بندوق سیدھی ان کے ماتھے پر رکھ دی بیٹھ جا ورنہ ابھی یہیں گولی دے ماریں گیں
بچوں کے لب سل گئے آنکھوں کے آنسو جم گئے ماں کی چیخیں گونجیں لیکن وہ بھی تھپڑوں اور روڈوں کی بارش میں ڈوب گئیں عورتوں کی چیخیں بچوں کی سسکیاں اور باپ کی آخری ہچک سب کچھ ایک ہی منظر میں قید ہو گیا
چور لاکھوں روپے مالیت کا سامان سمیٹتے رہے لاکھوں کا نقدی ، زیورات ، موبائل فون شناختیں سب چھین لیا گھر کے ستون لرزتے رہے اور فرش پر باپ کی لاش سرد پڑ گئی
متاثرہ شہریوں نے بتایا ہے کہ عورتوں کو گھسیٹا گیا سروں پر روڈیں برسائی گئیں وہ سب خوف میں کانپتے رہے پولیس پہنچی وردیوں کے ساتھ بڑے افسر کاغذوں کے ساتھ زبانی تسلیاں دے دی گئی ہیں ایس ایس ہی صاحب فرماتے ہیں سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج چیکنگ شروع ہوگئی ملزمان پکڑ کر دیں گیں
لاش تو بیٹوں نے خود غسل دی خود کفن پہنایا گھر کے سامنے سڑک پر وہ اپنے باپ کی میت کے ساتھ بیٹھے تھے ایف آئی آر مقدمہ انصاف سب قصے کہانیاں لگتے ہیں ان کے لیے تو بس وہ لاش تھی جو کل تک باپ تھی اور آج زمین کی امانت بننے جا رہی تھی
محلے کے لوگ کہہ رہے تھےکب تک ہم لٹتے رہیں گے؟ کب تک سیف سٹی کے وعدے کانوں کو بہلاتے رہیں گے؟ کب تک یہ شہر ڈاکوؤں کے ہاتھوں یرغمال رہے گا؟
لیکن سچ یہ ہے کہ باپ کی موت پر کوئی تقریر کام نہیں آتی نہ وزیرِ اعلیٰ کے دورے نہ افسران کی فوٹو سیشن نہ رپورٹس صرف وہ منظر باقی رہتا ہےایک باپ تڑپتا ہوا بچے ہاتھ باندھے بیٹھے اور ڈاکو ہنستے ہوئے سامان باندھتے ہوئے
یہ واردات پاکستان کے پورٹ سٹی میں رپورٹ ہوئی ہے ٹھیک اسی طرح جس طرح باقی واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں