تحریر : علی رضا
عمران خان اور بشرا بی بی کو عدالتی حکم پر 17 ,17 سال کی سزائیں سنادی گئی ہیں میں نے اس حوالے سے اپنے سید علی رضا کے نام سے بنے پیج پر پوسٹ شیئر کی جہاں میں نے عوامی کی رائے جاننا چاہی
اس بار مجھے حیرانی ہوئی کیونکہ
وہ ملک جو کل تک اس نام پر چیختا تھا آج اسی نام پر خاموش ہے سوشل میڈیا کی گلیاں جہاں گالیاں عبادت سمجھی جاتی تھیں وہاں اب لفظ تھک گئے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو سوال سن کر حملہ آور ہو جاتےتھے اور آج سوال سن کر نظر چرا رہے ہیں شاید یہ شور بھایک نشہ تھا اور نشہ اتر جائے تو سر میں درد رہ جاتا ہے
عمران خان ایک کردار نہیں تھا وہ ایک کیفیت تھا امید کی وہ کیفیت جس میں لوگ دلیل نہیں ڈھونڈتے صرف یقین مانگتے ہیں جب یقین ٹوٹتا ہے تو لوگ غصے میں نہیں آتے وہ شرمندہ ہو جاتے ہیں شرمندگی کا یہ عالم ہے کہ جو کل تک لڑتے تھے آج دلیل دیتے ہیں اور جو خاموش تھے آج کہتے ہیں اچھا ہوا یہ تبدیلی نہیں یہ حساب ہے جو وقت نے خود کیا ہے
سوشل میڈیا کا ہجوم دراصل سچ کا دشمن نہیں ہوتا وہ صبر کا دشمن ہوتا ہے جب فیصلے لمبے ہوں اور نعرے چھوٹے ہوں تو ہجوم تھک جاتا ہے پھر وہی ہجوم جو ایک نام پر جان دیتا تھا کہتا ہے سب ایک جیسے تھے فرق صرف آواز کا تھا یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہیرو بھی انسان بن جاتا ہے اور انسان پر تنقید جائز ہو جاتی ہے
کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی ائی رہنماوں نے بھی میڈیا کو خط میں اب مزاکرات کی اہمیت پر زور دیا ہے
شاید کسی کو معلوم تھا کہ بت زیادہ دیر سلامت نہیں رہتے جب عوام سچ دیکھنا سیکھ لیں تو لیڈر نہیں بچتے صرف اعمال بچتے ہیں یہ سوشل رفٹ نہیں یہ اجتماعی بلوغت ہے شور کم ہو رہا ہے کیونکہ تماشا ختم ہو رہا ہے اور اب اس ملک میں پہلی بار لوگ نام نہیں نتیجہ پوچھ رہے ہیں
پاکستان تحریک انصاف کے ملک بھر کے رہنماء بھی احتجاج بھی کررہے ہیں پر وہ بے نتیجہ نکل رہے ہیں
اب اس فیصلہ کے بعد کیا نتائج سامنے اتے ہیں یہ دیکھنا بے حد ضروری ہے اور کیا اب مزاکرات کی ٹیبل پر ہی واحد بات ہوسکتی ہے یا عمران خان اب بھی برادشت کریں گیں یہ عوام دیکھنا چاہی گی مجھے اپ اپنی رائے سے اگاہ لازمی کیجئےگا